بہاولنگر گندم اسکینڈل، فوڈ انسپکٹر وسیم طلحہ برطرف، سمگلنگ، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ثابت

بہاولنگر : محکمہ خوراک پنجاب نے بہاولنگر گندم اسکینڈل میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے فوڈ گرینز انسپکٹر وسیم طلحہ کو سمگلنگ، کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری پالیسی کی خلاف ورزی کے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ بہاولپور امان اللہ سومرو کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ حکم نامے کے مطابق انکوائری میں افسر کے خلاف لگائے گئے سنگین الزامات ثابت ہونے پر انہیں فوری طور پر سروس سے برخاست کر دیا گیا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق وسیم طلحہ کو چشتیاں، منچن آباد اور بہاولنگر میں غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور ضبط شدہ گندم کو سرکاری خریداری مراکز تک منتقل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم انہوں نے مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ضبط شدہ گندم سرکاری پالیسی کے برعکس مقامی فلور ملز کو زیادہ نرخوں پر فروخت کی اور ذاتی مالی فائدہ حاصل کیا۔

تحقیقات کے مطابق مذکورہ افسر نے پہلے مختلف گودام سیل کیے، بعد ازاں مبینہ طور پر ذخیرہ اندوزوں سے سازباز کر کے انہیں گندم فروخت کرنے کی اجازت دی۔ انکوائری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس عمل کے دوران وہ مالی فوائد حاصل کرتا رہا۔

حکم نامے کے مطابق میزان فلور ملز چشتیاں سمیت دیگر فلور ملز کو گندم فروخت کی گئی، جسے بعد ازاں دیگر ڈویژنز، خصوصاً راولپنڈی، منتقل کیا گیا، جو محکمہ خوراک کی پالیسی کے خلاف قرار دیا گیا۔

انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ وسیم طلحہ نے مبینہ طور پر مقامی فلور ملز مالکان، گندم تاجروں اور آڑھتیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ قائم کر رکھا تھا اور گندم کی غیر قانونی ترسیل اور سمگلنگ میں سہولت کاری کرتا رہا۔ اس حوالے سے محکمہ کو متعدد شکایات بھی موصول ہوئی تھیں۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق افسر نے بعض خالی گوداموں کو سیل کر کے حقائق چھپانے کی کوشش کی، جبکہ گندم پہلے ہی وہاں سے نکال کر دیگر اضلاع منتقل کی جا چکی تھی۔ محکمہ کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف محکمانہ احکامات بلکہ حکومت کی اینٹی ہورڈنگ مہم اور فوڈ سیکیورٹی پالیسی کو بھی نقصان پہنچا۔

محکمہ خوراک کی جانب سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ ملزم افسر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، تاہم وہ الزامات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا۔ ذاتی سماعت اور دستیاب ریکارڈ، شواہد اور گواہیوں کی روشنی میں الزامات ثابت ہونے پر اسے ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں