چشتیاں میں پٹواری پر تشدد کیس: سیاسی دباؤ کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج کر لیا،قانون کی بالادستی میں ڈی پی او بہاولنگر اور آر پی او بہاولپور کا قابل تحسین کردار
چشتیاں (نمائندہ خصوصی): چشتیاں میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے پٹواری رانا حسیب اللہ پر سرکاری دفتر کے اندر مبینہ تشدد کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ممکنہ سیاسی دباؤ کے باوجود بہاولنگر پولیس نے مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ عوامی و سماجی حلقوں نے قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے پر ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران اور آر پی او بہاولپور غازی محمد صلاح الدین کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے میرٹ پر مبنی پولیسنگ کی مثبت مثال قرار دیا ہے۔
تھانہ سٹی اے ڈویژن چشتیاں میں درج ایف آئی آر کے مطابق پٹواری رانا حسیب اللہ، جو محکمہ مال میں تعینات ہیں، کو بلال مشتاق ولد محمد مشتاق سکنہ نشتر کالونی لاہور کی جانب سے بغداد کالونی چشتیاں میں واقع چار مرلہ مکان کی وراثتی قبضہ رپورٹ موقع ملاحظہ کے لیے موصول ہوئی تھی۔ انہوں نے 3 اگست کو حقائق کے مطابق رپورٹ مرتب کرکے متعلقہ حکام کو ارسال کر دی، تاہم تحصیلدار چشتیاں کی جانب سے رپورٹ پر اعتراض عائد کرتے ہوئے دوبارہ موقع ملاحظہ کرکے نئی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ایف آئی آر میں درج مؤقف کے مطابق اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے مقامی ایم این اے و پارلیمانی سیکرٹری کے مبینہ پرسنل اسسٹنٹس "خالد کاہلوں” اور "سعد ارشد” نے فون پر رابطہ کرکے مبینہ طور پر گالم گلوچ، سنگین دھمکیاں اور اپنی مرضی کے مطابق فوری رپورٹ مرتب کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ متاثرہ پٹواری کے مطابق وہ اس تمام صورتحال سے اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کو آگاہ کرنے کا ارادہ کر رہے تھے کہ اسی دوران مبینہ طور پر "سومی چشتی” نامی شخص اپنے چھ مسلح ساتھیوں کے ہمراہ سرکاری پٹوار خانہ میں داخل ہوا اور رانا حسیب اللہ کو سوٹوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔
واقعے کے بعد پٹوار یونین نے اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کے دفتر کے سامنے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ حملہ آوروں کو فوری گرفتار کیا جائے، سرکاری ریکارڈ کی بازیابی یقینی بنائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملزمان مبینہ طور پر ایک جائیداد کے معاملے میں اپنی مرضی کی رپورٹ تیار کروانا چاہتے تھے، جبکہ حملے سے قبل فون پر دھمکیاں اور گالم گلوچ بھی کی گئی۔ یونین نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ حملہ آور سرکاری ریونیو ریکارڈ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس نے متاثرہ پٹواری کی درخواست پر سومی چشتی اور اس کے چھ ساتھیوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 109، 148، 149، 353، 186، 189 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔
شہریوں، وکلاء، سرکاری ملازمین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس امر کو خوش آئند قرار دیا کہ ممکنہ سیاسی دباؤ کے باوجود بہاولنگر پولیس نے قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کی۔ انہوں نے خصوصاً ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران اور آر پی او بہاولپور غازی محمد صلاح الدین کی پیشہ ورانہ قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی اور سرکاری ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت اور میرٹ پر کی جائیں، تمام حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ملوث تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے تاکہ سرکاری ملازمین بلاخوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی مؤثر روک تھام ممکن ہو۔