چشتیاں کو ضلع بنانے کی ضرورت اور اہمیت

تحریر: محمد عامر سہیل

چشتیاں پنجاب کے جنوبی خطے کا ایک اہم، تاریخی اور زرخیز علاقہ ہے جو اپنی زراعت، محنتی لوگوں اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتا ہے کیونکہ چشتیاں کو باقاعدہ طور پر برطانوی دور میں تقریباً 1927ء کے آس پاس تحصیل کا درجہ دیا گیا۔چشتیاں پہلے ایک چھوٹا سا علاقہ تھا جسے روہیلانوالی کہا جاتا تھا، بعد میں اس کا نام بدل کر چشتیاں رکھا گیاتحصیل بننے کی اصل وجوہات ریلوے اسٹیشن کی اہمیت ھےجب برطانوی حکومت نے یہاں ریلوے لائن بنائی تو چشتیاں ایک اہم اسٹاپ بن گیا اس سے شہر کی اہمیت تیزی سے بڑھی اورنہری نظام (ستلج ویلی پراجیکٹ)1920 کی دہائی میں نہریں بنیں بنجر زمینیں آباد ہوئیں زراعت اور آبادی میں بہت اضافہ ہوا آبادی اور منڈی کےقیام کے بعد لوگ یہاں آکر آباد ہونے لگےگندم، کپاس اور دیگر فصلوں کی بڑی منڈی بنی انتظامی مرکز بنانے کی ضرورت پڑی ریاست بہاولپور کی انتظامی پالیسی پریہ علاقہ اس وقت ریاست بہاولپور کے زیرِ انتظام تھا نواب بہاولپور نے بہتر نظم و نسق کے لیے اسے تحصیل بنا دیا 1953میں جب بہاولنگر کو ضلع بنا یا گیا تو تحصیل چشتیاں کےساتھ حاصل پور بھی ضلع بہاولنگر کا حصہ تھی بعد ازاں حاصل پور کو بہاولپور ضلع میں شامل کر دیاگیا تحصیل چشتیاں کی اس وقت کل یونین کونسلز31جبکہ میونسپل کمیٹی کی 10ہیں تحصیل چشتیاں کاحلقہ قومی اسمبلی کی 2اورصوبائی اسمبلی کی3 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں( این اے161)این اے162)( پی پی239) 241) ( 242)شامل ہیں این اے 161میں تحصیل چشتیاں کا تقریباً 12کلو میٹر چک عبداللہ چک نمبر1گجیانی تک این اے 161اورپی پی 239شامل ہیں جبکہ این اے 162موضع شعلی غربی (ملحقہ ہیڈ اسلام حاصل پور) سے شروع ہوکر چشتیاں ڈاہرانوالا بخشن خان اور ہارون آباد کی 6یونین کونسل شامل ہیں جبکہ ڈاہرانوالا سےچک نمبر209مراد تحصیل چشتیاں کا آخری گاؤں گےاس سےآگے ایک جانب تحصیل حاصل پور اور دوسری جانب چولستان کاعلاقہ ساتھ لگتاھے تحصیل ہارون آباد ،تحصیل فورٹ عباس تحصیل حاصل پور اور ڈاہرانوالا کو تحصیل کادرجہ دیکر چشتیاں کو ضلع بنایا جاسکتا ہے تحصیل چشتیاں کی کل ابادی تقریباً 8لاکھ ھے اور 31یونین کونسلز ہیں ، تحصیل ہارون آباد کی تقریباً آبادی6لاکھ اور22یونین کونسلز ہیں تحصیل فورٹ عباس کی آبادی تقریباً 5لاکھ اور16یونین کونسلز ہیں جبکہ تحصیل حاصل پور کی آبادی 5لاکھ 6ہزار ھےاوریونین کونسلز 15 ہیں تمام تحصیلوں کی ابادی 2023کی مردم شماری کے مطابق ھے آبادی کے لحاظ سے تحصیل چشتیاں ان سب سے بڑی ھےعرصہ دراز سے یہاں کے عوام یہ مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ چشتیاں کو ضلع کا درجہ دیا جائے تاکہ انتظامی سہولیات بہتر ہوں اور ترقی کے نئے دروازے کھل سکیں گے کیونکہ چشتیاں ضلع بہاولنگر کی ایک بڑی اور اہم تحصیل ہے۔

یہ شہر اپنی روحانی نسبت (چشتی سلسلہ)، زرخیز زمینوں اور بڑی آبادی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر زراعت، کاروبار اور چھوٹی صنعتوں سے وابستہ ہیں چشتیاں کی آبادی چشتیاں کی آبادی لاکھوں افراد پر مشتمل ہے۔ اندازاً اس کی آبادی 8 سے 10 لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے (وقت کے ساتھ اضافہ جاری ہے)۔ اس بڑی آبادی کے باعث انتظامی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں جن کے حل کے لیے ضلع کا درجہ انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہےچشتیاں کا رقبہ چشتیاں کا مجموعی رقبہ وسیع زرعی زمینوں پر مشتمل ہے۔ اس میں کئی دیہات، قصبات اور زرعی علاقے شامل ہیں جو اسے ایک بڑی اور اہم تحصیل بناتے ہیں۔ یہاں کی زمین گندم، کپاس اور دیگر فصلوں کے لیے انتہائی موزوں ہےچشتیاں کا نام برصغیر پاک وہند کے مشہور اولیاء کرام حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے پوتے حضرت بابا تاج الدین سرور چشتی رحمۃ اللہ علیہ چشتی سلسلے سے منسوب ہے۔ یہ خطہ صدیوں سے علم، روحانیت اور زراعت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کی ثقافت پنجاب کے دیہی حسن اور سادگی کی بہترین مثال ہےچشتیاں کے آخری دیہات چشتیاں تحصیل کے آخری علاقوں میں شامل ہیں نہر مراد،نہرفتح،نہر فورڈ واہ،اس کے علاوہ سرحدی اور دور دراز دیہات جو چولستان کے قریب واقع ہیں یہ علاقے انتظامی لحاظ سے کافی دور ہیں، جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہےتحصیل چشتیاں اور تحصیل بوریوالہ کو آپس میں ملانے کے لئے چشتیاں ساہوکا کے درمیان دریائے ستلج پر پل کی تعمیر علاقے کی تعمیر وترقی کے لئے ناگزیر ہے ساہوکا پل کی تعمیر سےچشتیاں کا زمینی رابطہ جو عرصہ دراز سے پنجاب سے منقطع گےاس پل کی تعمیر کے بعد چشتیاں کا زمینی رابطہ براہ راست پورے پنجاب سے ھوجائیگاجس سےبوریوالہ چشتیاں کے درمیان نہ صرف فاصلہ کم ھوگا بلکہ علاقہ کی ترقی کے لئے مثبت قدم ھےعدم تعمیر ایک عرصہ سے مقامی آبادی کے لیے سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے، جس کے باعث روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور سفری سہولیات میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں تحصیل چشتیاں اور تحصیل بورےوالا کے درمیان براہ راست رابطہ نہ ہونے کے باعث شہریوں کو چالیس سے پچاس کلومیٹر تک اضافی سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف وقت بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہےاوریہ صورتحال خاص طور پر کسانوں اور تاجروں کے لیے انتہائی مشکلات کا باعث ہے، جنہیں اپنی اجناس منڈیوں تک پہنچانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر دریائے ستلج پر پل تعمیر کر دیا جائے تو نہ صرف دونوں تحصیلوں کے درمیان فاصلے کم ہوں گے بلکہ علاقائی تجارت کو بھی فروغ ملے گا اور عوام کو سفری سہولیات میسر آئیں گی یہ منصوبہ علاقے کی معاشی ترقی کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہےاگر چشتیاں کو ضلع بنا دیا جائے توانتظامی نظام بہتر ہوگا عوام کو سرکاری دفاتر قریب ملیں گےترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل ہوں گےروزگار کے مواقع بڑھیں گےتعلیم اور صحت کی سہولیات بہتر ہوں گی مجوزہ ضلع چشتیاں کی تحصیلیں اگر چشتیاں کو ضلع بنایا جائے تو اس میں درج ذیل تحصیلیں بنائی جا سکتی ہیں چشتیاں (مرکزی تحصیل)فورٹ عباس، ہارون آباد،حاصل پور،ڈاہرانوالہ یہ تقسیم انتظامی لحاظ سے بہت بہتر اور متوازن ہوگی کیونکہ ہر علاقہ پہلے ہی جغرافیائی اور آبادی کے لحاظ سے مضبوط حیثیت رکھتا ہے۔چشتیاں کو ضلع کا درجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف عوام کے دیرینہ مسائل کا حل ہوگا بلکہ پورے علاقے کی ترقی، خوشحالی اور بہتر انتظامی ڈھانچے کی طرف ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔ حکومت اگر اس مطالبے پر غور کرے تو جنوبی پنجاب کے اس خطے میں ایک نیا ترقیاتی دور شروع ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں